پڈوچیری،30 اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) گزشتہ کئی ماہ سے لیفٹیننٹ گورنر کرن بیدی اور پڈوچیری حکومت کے ساتھ جاری تعطل کے درمیان اب مدراس ہائی کورٹ نے اس معاملے میں مداخلت کی ہے۔ ہائی کورٹ نے صاف کہا ہے کہ پڈوچیری کی لیفٹیننٹ گورنر کرن بیدی کے پاس کیمرکز کے زیر اقتدار ریاست کی روز مرہ کی سرگرمیوں میں مداخلت کرنے کا حق نہیں ہے۔ہائی کورٹ کے اس حکم کے بعد اب لیفٹیننٹ گورنر کرن بیدی پڈوچیری حکومت سے کسی بھی فائل کے بارے میں نہیں پوچھ سکتی ہیں۔اتنا ہی نہیں وہ نہ تو حکومت کو اور نہ ہی حکومت کی طرف سے کوئی حکم جاری کر سکیں گی۔بتا دیں کہ پڈوچیری کے وزیر اعلی وی نارائن سوامی نے فروری مہینے میں لیفٹیننٹ گورنر کرن بیدی پر ریاست کے کاموں میں دخل اندازی کرنے کا الزام لگایا تھا۔ اس کے بعد وہ مظاہرہ کرتے ہوئے راج بھون کے سامنے دھرنے پر بھی بیٹھ گئے تھے۔ اس دوران وزیر اعلی کابینہ وزراء اور ممبران اسمبلی کے ساتھ راج بھون کے باہر ہی سوئے تھے۔ سی ایم نے تب منتخب حکومت کے کاموں میں دخل دینے اور ترقی وبہبود کی اسکیموں کو روکنے کی مخالفت میں مظاہرہ کیا تھا۔سی ایم نے کہا تھاکہ بیدی نے ہماری مفت چاول یوجنا کو مسترد کر دیا اور فائل واپس کر دی۔ وہ کون ہیں؟ وہ منتخب حکومت کے منصوبوں اور پالیسیوں کو روک نہیں سکتیں۔سی ایم نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ انہوں نے 7 فروری کو خط لکھ کر 36- چارٹر ڈیمانڈس کو پورا کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن انہیں بیدی کا جواب نہیں ملا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب سے بیدی لیفٹیننٹ گورنر بنی ہیں وہ حکومت کے وہ حکومت کے ترقیاتی کاموں کو روک رہی ہیں۔ وہ کابینہ اور حکومت کے فیصلوں کو نظر انداز کر رہی ہیں۔